بیویوں کے ساتھ حضرت والا کا حسن سلوک۔

This can be accessed in English via:MOULANA ASHRAF ALI THAANWI’S TREATMENT TO WIVES – Ummati

لیکن بہر حال عورت ہے، وہ کچھ نہ کچھ کبھی زبان پر لے ہی آتی ہے ہیں تو ایسے مواقع پر ہمیشہ در گزر کرتا رہا ، ایسا کوئی موقع ہوا تو ٹال دیا۔ کھانا وقت پر ملاتب، وقت پر نہ ملا تب ، وقت پر پک وقت پر نہ پکا تب کبھی کچھ نہیں کہا۔۔

اگر کبھی مرچیں اتفاق سے تیز ہو گئیں، تب کچھ نہیں بس یہ کہدیا کرتا تھا ذرا سا میٹھا لے آنا۔ میرا تو ایسا برتاؤ رہا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے یوں کہا ہو کہ میرے لیے فلاں چیز پکا دوہ اگر زبان سے کبھی الٹی سیدھی انھوں نے کہہ بھی دی تو پروا نہیں کی۔ خیال کر لیا کہ کہنے دو یہ اپنی چہار دیواری کو، اپنی اماں کی گود کو ، اپنے ابا کے کندھے کو چھوڑ کر آئی ہے، اپنے اس گھر کو چھوڑ کر آئی ہے جہاں اس نے پرورش پائی تھی اور ایک اجنبی جگہ میں آتی ہے، یہ اس کا بہت بڑا ایثار ہے اور اس کے ماں باپ کا بھی بڑا ایثار ہے۔ چنانچہ جب اپنے گھر سے چلتی ہے، رخصت ہو کر آتی ہے تو رو کر چلتی ہے ۔

اے مرد ! ذرا سوچ اگر اللہ تعالیٰ تجھے عورت بنا دیتے تب تجھے پتا چلتا، پھر تو اُس بیچاری پر رحم کیوں نہیں کھاتا، اب جب وہ یہاں چہار دیواری میں تیرے پاس آئی ہے تو تجھ پر نازہ نہ کرے تو کس پر کرے، پھر بھلا اس کے ناز پر میاں نیاز مندی کیوں نہ کرے ۔ ارے بھائی جو کچھ وہ کہہ رہی ہے سن لو۔ چنانچہ حضرت والا نے ایک شخص کو جس نے اپنی بیوی کی بہت شکایات کی تھیں تحریر فرمایا تھا کہ

اس کی بے عدولی پر صبر اور تمہاری طرف سے عدل

حيات مسيح الامت, pg 458 & 459